نئی دہلی، 21 مئی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)دہلی بی جے پی میں ریاستی صدر منوج تیواری اور مرکزی وزیر وجے گوئل کے درمیان سرد جنگ اب کھل کر سامنے آ گئی ہے۔گوئل کی طرف سے 16 مئی کو منعقدہ تقریب میں پارٹی کی ہدایات کے خلاف جاکر شامل ہوئے آپ کونسلر کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا گیا ہے۔کونسلر کے اس قدم کو ڈسپلن شکنی قرار دیتے ہوئے پارٹی نے اس نوٹس پر ان سے جلد جواب دینے کو کہا ہے۔پارٹی قیادت نے ساتھ ہی ان کونسلرز کو کارپوریشن میں کوئی بڑی ذمہ داری نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔دراصل دہلی بی جے پی صدر منوج تیواری اور وجے گوئل کے درمیان گزشتہ کئی دنوں سے کشیدگی کی خبریں ہیں۔ اس سے پہلے وجے گوئل کے قریبی مانے جانے والے تین لیڈران کی ایم سی ڈی ایوان میں تقرری پر منوج تیواری نے روک لگا دی تھی۔اگرچہ یہ تازہ تنازعہ گوئل کی طرف سے بی جے پی کے فاتح کونسلر کے اعزاز میں 16 مئی کو اپنی سرکاری رہائش گاہ پر منعقدہ تقریب کو لے کر ہے۔ اس تقریب میں بی جے پی کے لیڈر رمیش بدھوڑی اورپرویش رانا جیسی پارٹی لیڈروں کے علاوہ تقریبا 50 کونسلر بھی شامل ہوئے تھے۔اسے لے کر دہلی بی جے پی کے سیکرٹری جنرل نے کونسلر کو مطلع کیا تھا کہ یہ تقریب ریاستی صدر کی مرضی کے خلاف منعقد کیا جا رہا ہے۔ ایسے میں وہ اس میں شامل نہ ہوں۔ بی جے پی کے ایک لیڈر اس بارے میں کہتے ہیں کہ ایسی تقریب ریاستی صدر ہی منعقد کرتے ہیں۔ اس (گوئل کے) فنکشن میں شامل ہوئے کونسلر سے پوچھا گیا ہے کہ انہیں ایسی کیا ضرورت آن پڑی تھی کہ پارٹی کے موقف کے خلاف جاکر وہ گوئل کی رہائش گاہ پر تقریب میں شریک ہوئے۔